نئی دہلی،26/نومبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی کے ریڈیو پر ماہانہ پروگرام من کی بات میں انہوں نے نیو انڈیا، پوزیٹیو انڈیا اور انسان دوست طاقتوں کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے پر زور دیا اور ملک کے عوام سے نیا ہندوستان بنانے کی اپیل کی۔مسٹر مودی نے ممبئی میں 9سال پہلے آج ہی کے دن ہوئے دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے عالمی برادری کی انسان دوست طاقتوں سے متحد ہوکر دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔مسٹر مودی نے ریڈیو سے آج نشر ’’من کی بات‘‘پروگرام کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے 26نومبر2008میں ممبئی پر حملہ بول دیا تھا۔انہوں نے اس حملے میں جان گنوانے والے بہادر شہریوں اور پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو اپنی خراج عقیدت پیش کی اور کہا کہ ملک ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں سکتا ہے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ دہشت گردی نے دنیا کی انسانیت کو للکارا ہے اور وہ انسان دوست طاقتوں کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے دنیا کی تمام انسان دوست طاقتوں کو متحد ہوکر اسے شکست دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سماجی تانے بانے کو کمزور کرکے ، انہیں منتشر کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں۔لہٰذا یہ وقت کی مانگ ہے کہ انسان دوست طاقتیں اس مسئلہ کولے کر بیدار ہوں اور مل کر اس کا مقابلہ کریں۔مسٹر مودی نے کہا کہ آج دنیا کے ہرحصے میں آئے دن دہشت گرد انہ حملے ہو رہے ہیں اور اس نے شدیدرخ اختیار کر لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے لوگ تو گزشتہ 40سال سے دہشت گردی کو جھیل رہے ہیں اور ہزاروں بے گناہ لوگوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں۔ کچھ سال پہلے ، ہندوستان جب دنیا کے سامنے دہشت گردی کی بحث کرتا تھا تو بہت سے لوگ اسے سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں تھے ۔لیکن آج جب دہشت گردی ان کے اپنے دروازوں پر دستک دے رہی ہے تب دنیا کی ہر حکومتوں نے دہشت گردی کو ایک بہت بڑا چیلنج کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان کی زمین سے بھگوان بدھ، بھگوان مہاویر، گرو نانک اور مہاتما گاندھی نے عدم تشدد اور محبت کا پیغام دنیا کو دیا ہے ۔اسی کے ساتھ وزیر اعظم نے ہندوستانی آئین کو جمہوریت کی روح قرار دیتے ہوئے ہم وطنوں سے اس پر لفظ بہ لفظ عمل کرنے اور اسی کی روح کے مطابق’’نیا ہندوستان‘‘بنانے کا اعلان کیا تاکہ سماج کے غریب، پسماندہ اور محروم طبقات کے لوگوں کے مفادات کی حفاظت کی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ 1949میں آج ہی کے دن آئین ساز اسمبلی نے ہندوستان کے آئین کو قبول کیا تھا اور 26جنوری1950کو یہ نافذ ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ آئین ہماری جمہوریت کی روح ہے ۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم آئین پر لفظ بہ لفظ عمل کریں۔ شہری ہوں یا ایڈمنسٹریٹر، آئین کی روح کے مطابق آگے بڑھنے ، کسی کو کسی بھی طرح سے نقصان نہ پہنچے ۔ یہی آئین کا پیغام ہے ۔ آئین کے معماروں کے خیالات کی روشنی میں نیا ہندوستان بنانا، ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ آج کا دن آئین سازاسمبلی کے ارکان کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے اسے بنانے کے لئے تین سال تک سخت محنت کی تھی۔مسٹر مودی نے کہا کہ ہمارا آئین بہت وسیع ہے۔شاید زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے ، فطرت کا کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جو اس سے اچھوتا رہ گیا ہو۔ سب کے لئے مساوات اور سبھی کے تئیں حساسیت ، ہمارے آئین کی شناخت ہے ۔ یہ ہر شہری، غریب ہو یا دلت، پسماندہ ہو یا محروم طبقات ، قبائلی ہو یا عورت سب کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور ان کے مفادات کو محفوظ رکھتا ہے ۔وزیر اعظم نے اس موقع پر بابائے آئین ساز بھیم راؤ امبیڈکر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس آئین ساز اسمبلی ہاؤس میں اہم موضوعات پر17الگ الگ کمیٹیوں کی تشکیل ہوئی تھی۔ ان میں سے سب سے زیادہ اہم کمیٹیوں میں سے ایک دستاویزات کمیٹی تھی جس کے صدرکے طور پر انہوں نے بڑا اہم رول ادا کیا تھا۔ آج ہم ہندوستان کے جس آئین پر فخر کرتے ہیں،اس کو بنانے میں بابا صاحب امبیڈکر کی مؤثر قیادت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سماج کے ہر طبقے کی فلاح و بہبود ہو۔6دسمبر کو ان کے’’مہاپرینروا دن‘‘کے موقع پر، ہم ہمیشہ کی طرح ان کو یاد اور سلام کرتے ہیں۔ ملک کو خوشحال اور طاقتور بنانے میں بابا صاحب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔وزیر اعظم نے15دسمبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کی برسی کے حوالہ سے انہیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ کسان کے بیٹے سے ملک کے مرد آہن بنے سردار پٹیل نے ، ملک کو ایک لڑی میں کر کے غیر معمولی کام کیا تھا۔ سردار صاحب بھی آئین ساز اسمبلی کے رکن تھے ۔وہ بنیادی حقوق، اقلیتوں اور قبائلیوں پر بنی ایڈوائزری کمیٹی کے بھی صدر تھے ۔انہوں نے کہا کہ آج یوم آئین ہے لیکن یہ ملک کیسے بھول سکتا ہے کہ آج ہی کے دن دہشت گردوں نے ممبئی میں حملہ کیا تھا اور بڑی تعداد میں لوگوں کی جان لی تھی۔ مسٹر مودی نے اس حملے میں جان گنوانے والے بہادر شہریوں، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ملک ان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرسکتا۔بچوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو لکھے اپنے خطوط کے ذریعہ اپنے من کی بات کی اور انہیں کئی مشورے دئے ہیں جن میں انہوں نے تعلیمی نظام میں تبدیلی اور گھر کے پاس اسکول کھولنے کی بات کہی ہے ۔مسٹر مودی نے بچوں کے ان خطوط میں کافی دلچسپی ظاہر کی اور’’من کی بات‘‘پروگرام میں ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کل بچوں میں کلاس میں پڑھنے کے بجائے قدرتی ماحول میں رہ کر سیکھنے میں زیادہ دلچسپی ہے ۔مسٹر مودی نے اپنے پروگرام کی شروعات میں ہی بچوں کے ان خطوط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹائمس گروپ کے’’وجئے کرناٹکا‘‘اخبار نے ’’یوم اطفال‘‘پر ایک پہل کی،جس میں اس نے بچوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کے وزیراعظم کو خط لکھیں۔اخبار نے ان میں سے منتخب کئے گئے چند خطوط کو شائع کیا۔مسٹر مودی نے کہاکہ میں نے بچوں کے خطوط پڑھے، مجھے بہت اچھا لگا۔یہ ننھے منے بچے بھی،ملک کے مسائل سے واقف ہیں،ملک میں چل رہی بحث سے بھی واقف ہیں۔شمالی کنڑا کی،کیرتی ہیگڑے نے ڈیجیٹل انڈیا اور اسمارٹ یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج کل بچے کلاس میں پڑھنا پسند نہیں کرتے ،انہیں قدرتی ماحول میں سیکھنا اچھا لگتا ہے ۔اگر ہم بچوں کو قدرت کے بارے معلومات دیں گے تو وہ ماحول کی حفاظت میں آگے کام آسکتے ہیں۔‘‘مسٹر مودی نے کہا کہ لکشمیشورا سے فوجی کی بیٹی ریڈا نداف نے لکھا ہے کہ انہیں فوجی کی بیٹی ہونے پر فخر ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ کون ہندوستانی ہوگا جس کو فوجی پر فخر نہ ہو،آپ تو فوجی کی بیٹی ہیں ،آپ کو فخر ہونا لازمی ہے ۔کلبرگی سے عرفانہ بیگم نے لکھا کہ ان کا اسکول ان کے گاؤں سے5کلومیٹر کی دوری پر ہے ،جس کی وجہ سے انہیں گھرسے جلدی نکلنا پڑتا ہے اور واپس آنے میں بھی بہت دیر رات ہو جاتی ہے ۔اس سے وہ دوستوں کے ساتھ وقت بھی نہیں گزار پاتی ہیں۔عرفانہ نے مشورہ دیا کہ اسکول گھر کے پاس ہونا چاہئے ۔اسی کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی نے’’نیو انڈیا‘‘کے بعد’’پوزیٹیو انڈیا‘‘کانعرہ دیا ہے اور لوگوں سے اسے سوشیل میڈیا پر پھیلانے کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے پروگرام میں آئین کے مطابق، نیو انڈیا بنانے کے ساتھ ہی لوگوں سے پوزیٹیو انڈیا بنانے کی بات کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سال2017کے پانچ سب سے اہم مثبت تجربات کو اشتراک کرنے کے لئے کہا ہے تاکہ ملک میں مثبت ماحول بنے ۔
انہوں نے مودی نے کان پور میں نرجا سنگھ کی ٹیلیفون کال کے جواب میں یہ بات کہی انہوں نے کہاکہ آپ کی بار صحیح ہے کہ2017مکمل ہو رہا ہے۔2018دروازہ پر دستک رہا ہے لیکن آپ نے اچھی تجویز پیش کی ہے ۔ آپ ہی کی بات میں مجھے اس میں کچھ شامل کرنے کا دل کر رہا ۔ ہمارے یہاں بزرگ لوگ ھمیشہ کہا کرتے ہیں کہ دکھ کو بھول جاؤ، مجھے لگتا ہے کہ اس کو پھیلانے کی ضرورت ہے ۔